ابنا: تہران کے ساتھ توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا ، ہمیں توانائی کے بحران کا سامنا ہے جہاں سے بھی ملے گی حاصل کریں گے مارچ کے دوسرے ہفتے میں پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ میں آ جائیں گی، نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی، خطہ ایک فوجی کارروائی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے ، کئی دہائیوں بعد روس سے تعلقات بحال کئے ، ماسکو کو تجارت کے حوالے سے اہم پارٹنر تصور کرتے ہیں ، امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں ، برطانیہ نے یورپی مارکیٹ تک رسائی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ ملکی مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، تمام فیصلے ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر کئے جائیں گے، پاک ایران توانائی منصوبہ ملکی مفاد کے تحت آگے بڑھائیں گے اور بغیر کسی غیرملکی دباؤ کے ایران کے ساتھ گیس منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ میں آ جائیں گی اور نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان امن عمل میں افغانستان کے ساتھ ہے پاکستان، ایران افغانستان کے امن کا خطے کے امن سے براہ راست تعلق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دینگے۔
انہوں نے کہا کہ خطہ فوجی کارروائی سے عدم استحکام کا متحمل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ امریکی حکام نے سلالہ چیک پوسٹ واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو یورپی مارکیٹ تک رسائی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایران سے تجارتی تعلقات بالخصوص دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن کے مشترکہ منصوبے کے تناظر میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے لب و لہجے کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے بدترین بحران کا شکار ہے جسے ختم کرنے کے لئے ہمیں اپنی قومی ترجیحات کو پیش نظر رکھنا ہو گا اور پاکستان اس حوالے سے تمام فیصلے اپنی ضرورتوں کے تحت قومی مفاد میں کرے گا۔
ایران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایک ملک دوسرے ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس کااطلاق ایک تیسرے ملک پر کس طرح ہوتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ طے کرینگے کیونکہ یورپی دنیا میں اس بات پر ہم آہنگی موجود ہے کہ خطہ کسی فوجی کارروائی سے عدم استحکام کا متحمل ہرگز نہیں ہو سکتا۔..............
/169